گدھا.... کاوش نمبر 4

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 4
===========
موضوع: گدھا

یہ ایک عظیم اور شریف جانور ہے کون ہے جو اس کے نام اور کام سے واقف نہیں، کوئی لاکھ کوششیں کرے اسے عقل مند بنانے کی مگر وہی دھاک کے تین پات۔۔۔لیکن مجھ جیسا کور چشم اگر کوئی ہو جسے دن کے شفاف اجالے اور سورج کی تند و تیز روشنی میں بھی یہ مخلوق نظر نہ آئی ہو تو اس کے لیے پیش خدمت ہے گدھے کا ایک بے ڈھنگا سا خاکہ اگر درست ہو تو ٹھیک ورنہ ناک چڑھانے کی کاوش فضول ہے کیوں کہ یہ کوئی عنقا نہیں ہرجگہ ہر وقت دستیاب ہے
چار ٹانگیں، دو کان، لمبی بھینس جیسی جسامت بلکہ اس سے تھوڑی کم جھکے سر والا جانور۔۔۔۔ جی ہاں صحیح سمجھے اسی کو گدھا کہتے ہیں۔۔۔

اس کی عاجزی اور انکساری کی مثالیں بھی موجود ہیں جو چودہ طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔۔۔جب اس کو ریڑھی میں جوتا جائے تو یہ اتنا آہستہ چلتا ہے کہ سوار کو منزل کا تصور کرکے دانتوں پسینہ آجائے لیکن جیسے ہی اس کو چپت لگائی جائے تو اس کی رفتار آسمان سے باتیں کرتی ہے پھر چلانے والا دوسروں کو آواز دیتا ہے مجھے نہیں خود کو بچائیں۔۔۔اور جہاں ریڑھی سے آزاد ہو وہاں کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور۔۔۔جہاں انسان بےبس ہو جائے وہاں گدھا ہی کام آتا ہے جس انسان پر غصہ اتارنا ہو اسے منہ بنا کر گدھا کہہ دیتے ہیں کتا اور بلا نہیں کہتے کیوں کہ انسان ضرورت کے وقت گدھے کو ہی باپ بناسکتا ہے جب کہ کتے اور بلے میں یہ صلاحیت نہیں۔۔۔۔ گدھا ایک شریف جانور ہے کیوں کہ آج تک اس کی بدمعاشی کی مثال نہیں ملی اگر کسی کے پاس مثال موجود ہو تو ہمیں ضرور اطلاع کرے۔۔۔۔
گدھا منوں وزن بخوشی برداشت کرلیتا ہے
مگر موڈ بگڑنے پر تیس پینتیس کلو کے انسان کو بھی دھول چٹادیتا ہے گدھے میں بہت ساری خوبیاں ہیں سب سے اہم خوبی یہ کہ وہ انسان کا اکرام کرتا ہے اور اس کے اپنے پیچھے سے گزرنے کو بے ادبی شمار کرتا ہے، اگر کوئی ایسی ناگفتہ بہ حرکت کرنے کی کوشش کرے تو فورا دولتیاں رسید کرکے یہ احساس دلاتا ہے کہ میں ضرورت کے وقت ہی باپ ہوتا ہوں ناکہ ہر وقت۔۔۔گدھا کہیں کہیں اپنے دماغ کا بھی استعمال کرلیتا ہے اور چالاکی دکھانے کی کوشش کرتا ہے جیسے کوئی نمک لاد کر وادی سے گزرے تو گدھا نہایت شاطرانہ چال دکھاکر اپنا وزن کم کرلیتا ہے ، اس کا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے جب کہ مالک کف افسوس ملتا ہے لیکن اکثر دھوکا کھا لیتا ہے روئی کو نمک سمجھ کر پھر خون کے آنسو روتا ہے بہت سارے گدھے مل کر انقلاب بھی برپا کرسکتے ہیں لیکن یہ انقلاب عارضی ہوتا ہے بعد میں یہ ایسے ختم ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ یوں تو گدھے کا ذکر قران میں بھی ہوا ہے وجہ بھی انسان ہی بنا کیوں کہ جیسے نمک، روئی، گندم،چارہ اور کتابیں اپنی کمر پر لادنے کی وجہ سے یہ ذرا بھر بھی نفع نہیں اٹھاسکتا ایسے ہی وہ انسان بھی گدھے کی طرح ہے جس نے علم پر عمل نہیں کیا اس نے بھی بوجھ ہی لاد رکھا ہے۔۔۔
ہم نے بھی ایک مرتبہ چار و ناچار کی گدھے پر سواری، ہوا یوں کہ سب سے پہلے گدھے کی رسی کو ایک ستون سے مضبوطی سے باندھا پھر حواس خمسہ کو جمع کیا بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اور ہم ہانپتے کانپتے جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کے ورد سمیت گدھے پر براجمان ہوئے ہی تھے کہ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کیوں کہ ماموں تب تک گدھے کی رسی کھول کر بڑے فخریہ انداز میں دیکھ رہے تھے اچانک گدھے نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا، پیچھے سے ماموں نے گدھے کو زور سے چپت ماری تو وہ حواس باختہ ہوگیا اور پھر آن کی آن میں بھرے بازار میں ماموں کو دولتی مار کر پٹخا اور بھاگنے لگا، ہم تھے کہ ایک طرف کو لڑھک گئے ، ہمارے پاؤں گدھے کی لگاموں میں پھنسے ہوئے تھے اور ہم آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا میں بھی شمار کے قابل نہ تھے، سب لوگ تماشائی بنے ہماری بے چارگی پہ ٹھٹھے لگا رہے تھے اور ہم گدھے کے ساتھ ساتھ گھسٹ رہے تھے بالآخر ایک صاحب نے ہمت مرداں مدد خدا کا ثبوت دیتے ہوئے گدھے کو جالیا تب ہماری جان بخشی ہوئی۔۔

===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/

Comments