انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 5
===========
موضوع: کوا
کہتے ہیں کوے کو حضرت نوح کی بد دعا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نےاسے آس پاس کی خبر لینے کے لیے بھیجا تو یہ مردار کھانے میں ایسا مست ہوا کہ حضرت نوح کو بی فاختہ کو بھیجنا پڑا۔ کوے کے لیے جے آئی ٹی بنی نہ کوئی دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی البتہ تمام پرندوں سے پہلے اپنے گھونسلے سے نکلنے کی سزا پائی۔ صبح صادق سے بھی کافی پہلے صرف کوے میاں ہی نکلتے ہیں اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مجھے کیوں نکالا? کیونکہ از خود نکلتے ہیں... ہاں لیکن وہ گھروں کی منڈیر پر بیٹھ کر مصیبت کی خبریں دیتے ہیں بقول شخصے
جو مصیبت بھی ہو آنی یہ بتا دیتے ہیں
کوے مہمان کی آمد کا پتا دیتے ہیں
یہاں سیاست کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے صاحبو کہ اس کے لیے یا تو پر کا کوا بنانا آتا ہو ،یا بے پر کی اڑانا اور بقول شاعر
تن اجلا من سانولا بگلے کا سا بھیک
تو سے تو کاگا بھلا جو اندر باہر ایک
سیاسی باتوں سے ذرا پرے یہ تو دیکھیے کہ وہ کوا پھنسانے کی چال کس کی تھی؟ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں؟؟؟
صاحبو ہم نے ہرگز جے آئی کا نام نہیں لیا۔ اور اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو اپنی صوابدید پر سمجھے ہم ہرگز ذ مہ دار نہ ہونگے۔ اور نہ ہی ہم خان صاحب کے بارے میں کچھ ایسا گمان رکھتے ہیں کہ کہا کسی نے کوا کان لے گیا ۔۔ کان نہیں دیکھتے کوے کےپیچھے دوڑے جاتے ہیں۔ اور وہ فون والی۔۔۔۔ ان کا تو ذکر ہی کیا؟؟؟ کوے اڑاتی ہے کوے ہنکنی!!
اب کون خان صاحب کا بلیک بیری حاصل کرے؟؟
اب پانامہ کیس کو ہی لیجیے۔کتنا ہی کوے کو سفید کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف بھی کووں کی بارات ہی تھی۔۔۔۔ اِدھر پھر کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھولا اور اُدھر کوے نے انڈے دیے اور بی کوئل انہیں سیتی رہی... آخر جب مٹھائی بانٹنے کا وقت آیا تو وہ کائیں کائیں ہوئی کہ الامان والحفیظ۔۔ یاد رہے کہ یہ کوئی سیاسی مضمون نہیں ہے۔۔ صاحبو کوے نے بہت سے اچھے کام بھی کیے ہیں۔۔۔ قابیل ہابیل کے قتل کے بعد جب اس مخمصے میں تھا کہ کیا کروں؟ اس وقت ایک کوے نے ہی اس کو دفنانے کا علم سکھایا۔۔ لیکن ہمارے ایک قابل استاد ججمجمجاری خان کا کہنا ہے کہ یہ بھی کوے کے سازشی ذہن کی کاروائی تھی جس نے گناہ کر کے چھپانا سکھایا۔ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کہتے واللہ اعلم۔۔۔۔۔
کہتے ہیں حضور پاک کی پیدائش سے پہلے جب آب زمزم کا کنواں پٹ جانے کے باعث اپنا نشان کھو بیٹھا تھااس وقت بھی ایک عظیم کوے نے اس کی نشاندہی کی تھی۔ صاحبو!! آج جب ہم کووں کے بارے میں سوچتے ہیں تو حضرت لقمان کے زمانے میں حکایتِ لقمان پڑھ کر کوے کنکر ڈال کر پانی اوپر لے آیا کرتے تھے۔۔ ابنِ انشا کے زمانے میں اس نے حکایت پڑھ کر کنکر ڈالے تو کنکر ہی سارا پانی چوس گئے اور بیچارا پیاسا ہی مرا۔۔ نہ ملی بے چارے کو ایک نلکی کہ وہ لاتا اور پیاس بجھاتا۔ ہمارے زمانے کے کوے کو پانی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔ واٹر بورڈ کی مہربانی سے اسے سڑکوں پر ہی وافر مقدار میں پانی میسر ہے۔۔ مزید یہ کہ وہ آگے کمیٹی کے نلکوں سے آنے والی ہوا سے اپنے پروں کو بھی خشک کر لیتا ہے۔ وہ قصہ تو آپ نے بھی پڑھا ہوگا کہ جب لومڑی نے پنیر کا ٹکڑا اس کی چونچ میں دبا دیکھا تو فورا ہی غزل کی فرمائش کر ڈالی۔۔ اتفاق سے کوا بھی حکایت لقمان پڑھ چکا تھا۔پنیر چونچ سے نکال کر پنجے میں دابا اور لگا کائیں کائیں کرنے۔۔۔ بی لومڑی کا جو کام نہ بنا تو بولی، دھت تیرے کی، لگتا ہے حکایاتِ لقمانی میں گریجویشن کر رکھا ہے، یہ کہتی اپنے راستے پر چل دی ۔۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کا رخ کینیڈا کی طرف تھا۔۔
بارے کووں کا کچھ بیاں ہورہا ہے تو کہا ججمجمجاری خان نے کوا پرندوں کی دنیا کا پچھلا وزیر اعلی سندھ ہے سب سے لمبی عمر پاتا ہے..
بھگت کبیر جی فرما گئےہیں
کاگا سب تن کھائیو، کھائیو چن چن ماس
دو نیناں مت کھائیو انہیں پیا ملن کی آس
یاد ریے بھگت جی نون لیگ سے پہلے کے تھےاورانکی زرداری یا کسی قطری شہزادے کی سے یاد اللہ نہ تھی۔ اب لیگ کسی پیا ملن کی آس میں اپنے نیناں، دیدہ و دل فرشِ راہ کیے مختلف کاگاؤں کو ماس کھلا رہی ہےیا ہو سکتا ہے پھر کوئی قطری شہزادہ مل ہی جائے۔
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
کاوش نمبر: 5
===========
موضوع: کوا
کہتے ہیں کوے کو حضرت نوح کی بد دعا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نےاسے آس پاس کی خبر لینے کے لیے بھیجا تو یہ مردار کھانے میں ایسا مست ہوا کہ حضرت نوح کو بی فاختہ کو بھیجنا پڑا۔ کوے کے لیے جے آئی ٹی بنی نہ کوئی دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی البتہ تمام پرندوں سے پہلے اپنے گھونسلے سے نکلنے کی سزا پائی۔ صبح صادق سے بھی کافی پہلے صرف کوے میاں ہی نکلتے ہیں اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مجھے کیوں نکالا? کیونکہ از خود نکلتے ہیں... ہاں لیکن وہ گھروں کی منڈیر پر بیٹھ کر مصیبت کی خبریں دیتے ہیں بقول شخصے
جو مصیبت بھی ہو آنی یہ بتا دیتے ہیں
کوے مہمان کی آمد کا پتا دیتے ہیں
یہاں سیاست کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے صاحبو کہ اس کے لیے یا تو پر کا کوا بنانا آتا ہو ،یا بے پر کی اڑانا اور بقول شاعر
تن اجلا من سانولا بگلے کا سا بھیک
تو سے تو کاگا بھلا جو اندر باہر ایک
سیاسی باتوں سے ذرا پرے یہ تو دیکھیے کہ وہ کوا پھنسانے کی چال کس کی تھی؟ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں؟؟؟
صاحبو ہم نے ہرگز جے آئی کا نام نہیں لیا۔ اور اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو اپنی صوابدید پر سمجھے ہم ہرگز ذ مہ دار نہ ہونگے۔ اور نہ ہی ہم خان صاحب کے بارے میں کچھ ایسا گمان رکھتے ہیں کہ کہا کسی نے کوا کان لے گیا ۔۔ کان نہیں دیکھتے کوے کےپیچھے دوڑے جاتے ہیں۔ اور وہ فون والی۔۔۔۔ ان کا تو ذکر ہی کیا؟؟؟ کوے اڑاتی ہے کوے ہنکنی!!
اب کون خان صاحب کا بلیک بیری حاصل کرے؟؟
اب پانامہ کیس کو ہی لیجیے۔کتنا ہی کوے کو سفید کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف بھی کووں کی بارات ہی تھی۔۔۔۔ اِدھر پھر کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھولا اور اُدھر کوے نے انڈے دیے اور بی کوئل انہیں سیتی رہی... آخر جب مٹھائی بانٹنے کا وقت آیا تو وہ کائیں کائیں ہوئی کہ الامان والحفیظ۔۔ یاد رہے کہ یہ کوئی سیاسی مضمون نہیں ہے۔۔ صاحبو کوے نے بہت سے اچھے کام بھی کیے ہیں۔۔۔ قابیل ہابیل کے قتل کے بعد جب اس مخمصے میں تھا کہ کیا کروں؟ اس وقت ایک کوے نے ہی اس کو دفنانے کا علم سکھایا۔۔ لیکن ہمارے ایک قابل استاد ججمجمجاری خان کا کہنا ہے کہ یہ بھی کوے کے سازشی ذہن کی کاروائی تھی جس نے گناہ کر کے چھپانا سکھایا۔ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کہتے واللہ اعلم۔۔۔۔۔
کہتے ہیں حضور پاک کی پیدائش سے پہلے جب آب زمزم کا کنواں پٹ جانے کے باعث اپنا نشان کھو بیٹھا تھااس وقت بھی ایک عظیم کوے نے اس کی نشاندہی کی تھی۔ صاحبو!! آج جب ہم کووں کے بارے میں سوچتے ہیں تو حضرت لقمان کے زمانے میں حکایتِ لقمان پڑھ کر کوے کنکر ڈال کر پانی اوپر لے آیا کرتے تھے۔۔ ابنِ انشا کے زمانے میں اس نے حکایت پڑھ کر کنکر ڈالے تو کنکر ہی سارا پانی چوس گئے اور بیچارا پیاسا ہی مرا۔۔ نہ ملی بے چارے کو ایک نلکی کہ وہ لاتا اور پیاس بجھاتا۔ ہمارے زمانے کے کوے کو پانی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔ واٹر بورڈ کی مہربانی سے اسے سڑکوں پر ہی وافر مقدار میں پانی میسر ہے۔۔ مزید یہ کہ وہ آگے کمیٹی کے نلکوں سے آنے والی ہوا سے اپنے پروں کو بھی خشک کر لیتا ہے۔ وہ قصہ تو آپ نے بھی پڑھا ہوگا کہ جب لومڑی نے پنیر کا ٹکڑا اس کی چونچ میں دبا دیکھا تو فورا ہی غزل کی فرمائش کر ڈالی۔۔ اتفاق سے کوا بھی حکایت لقمان پڑھ چکا تھا۔پنیر چونچ سے نکال کر پنجے میں دابا اور لگا کائیں کائیں کرنے۔۔۔ بی لومڑی کا جو کام نہ بنا تو بولی، دھت تیرے کی، لگتا ہے حکایاتِ لقمانی میں گریجویشن کر رکھا ہے، یہ کہتی اپنے راستے پر چل دی ۔۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کا رخ کینیڈا کی طرف تھا۔۔
بارے کووں کا کچھ بیاں ہورہا ہے تو کہا ججمجمجاری خان نے کوا پرندوں کی دنیا کا پچھلا وزیر اعلی سندھ ہے سب سے لمبی عمر پاتا ہے..
بھگت کبیر جی فرما گئےہیں
کاگا سب تن کھائیو، کھائیو چن چن ماس
دو نیناں مت کھائیو انہیں پیا ملن کی آس
یاد ریے بھگت جی نون لیگ سے پہلے کے تھےاورانکی زرداری یا کسی قطری شہزادے کی سے یاد اللہ نہ تھی۔ اب لیگ کسی پیا ملن کی آس میں اپنے نیناں، دیدہ و دل فرشِ راہ کیے مختلف کاگاؤں کو ماس کھلا رہی ہےیا ہو سکتا ہے پھر کوئی قطری شہزادہ مل ہی جائے۔
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
Comments
Post a Comment