بندر... کاوش نمبر 6

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 6
===========
موضوع: بندر

عنوان: بندر اور بندہ
جناب محترم بندر صاحب ایک طرح دار جانور ہیں۔ جناب بندر اور بندے کے ساتھ کی تاریخ گواہ ہے۔ اردو ادب کی ترقی میں جناب بندر کا اہم کردار ہے۔ جناب محترم نے بلیوں کے درمیان روٹی کی تقسیم میں ایک اہم کردار نبھایا جو امر ہوگیا اور جس طرح سلمان خان کی فلم آتے ہی ان سے متاثر افراد ویسے ہی کپڑے پہن کر گھومتے ہیں بالکل اسی طرح جناب بندر سے عقیدت رکھنے والے افراد بندر بانٹ کر کے ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے ناریل کے استعمال کے بھی بہت جدید طریقے روشناس کروائے اور جناب بندر کے ہاتھ میں ناریل ہونے کو لوگوں نے بہت سراہا۔ کچھ افراد نے اسی سے آئیڈیا لے کر ٹیلی مال مارکیٹنگ کا طریقہ نکالا۔ البتہ ادرک ان کے مزاج کو کچھ زیادہ نہیں بھائی۔ کچھ بے کلاسے لوگ کہتے بھی ہیں کہ بندر کیا جانے ادرک کا مزہ مگر کہنے دیجیئے اس سے جناب بندر کی اہمیت کم نہیں ہوجائے گی۔ یقین مانیئے نہاری، ادرک کے بغیر بھی لذیذ ہی ہوتی ہے۔ تو باقی ادرک کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ ایک جگہ اور بھی جناب نے دودھ کا دودھ پانی کاپانی کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر افسوس کی بات یہ کہ ان کا نام لیڈ رول میں نہیں آسکا۔ چلیئے کیا پتا کچھ عرصے بعد انہیں بھی نواز الدین صدیقی کی مانند ان کی نیچرل ایکٹنگ پہ سراہا جائے۔ محنت کبھی نا کبھی تو رنگ لاتی ہے۔

جناب بندر نے تدریس کے شعبے میں بھی اہم کارنامے انجام دیئے اور ہونہار شاگردوں کو نقل کرنے کے احسن طریقوں سے روشناس کروایا۔ ان کی نقل کے زمرے میں بہترین کارکردگی ان کا ڈی این اے اسٹرکچر ہے جو انہوں نے 98 فیصد انسانوں سے نہایت عمدہ طریقے سے نقل کیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی پہ انہیں تمغہء حسن کارکردگی دینے کا ارادہ کیا گیا مگر وہ درخت پہ ذرا اونچی شاخ پہ لٹکے تھے اس لیئے وہاں تک پہنچایا نہیں جاسکا۔ مگر ان کا طریقہء تدریس بہت مقبول ہوا اور بڑے پیمانے پہ رائج کیا گیا۔ اساتذہ کو بھی ان کے طریقہء تدریس سے بہت فائدہ ہوا۔ انہیں کم خرچ بالا نشیں قسم کا طریقہ مل گیا جس میں کسی اضافی کتاب یا تجرباتی آلات کے بغیر ہی عمدہ طریقے سے نصابی کتاب کے الفاظ مکھی ٹو مکھی کاپیوں میں منتقل کروائے جاسکتے ہیں۔ اور اسی مکھی ٹو مکھی جانچ کے کلیئے کی مدد سے ہر طالب علم محو پرواز رنگ حاصل کرسکتا ہے۔ فلائنگ کلرز کی عمدہ اردو نقل پیش کرنے پہ اس ناچیز کو بھی محو پروازرنگ عنایت کیئے جائیں۔

البتہ فیشن انڈسٹری میں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا، ان کی زوجہ کے لیئے نامناسب الفاظ استعمال کر کے کنٹرو ورسی بنانے کی کوشش بھی کی گئی۔ حالانکہ گلابی رخساروں کو بندریا بیگم کے رخساروں سے بھی تشبیہہ دی جاسکتی تھی۔

لوگ وقت پڑنے پہ گدھے کو باپ بنا لیتے ہیں مگر ڈارون سے ایک فاش غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے بندر کو باپ بنا لیا۔ اب چونکہ جناب بندر گدھے سے زیادہ فہم و فراست رکھتے ہیں لہذا انہوں نے یہ عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ کافی کوشش کی گئی کہ سمجھا بجھا کر ان سے یہ عہدہ واپس لیا جائے مگر جناب "جنرل" ارتقاء صاحب نے بے جا مداخلت کی اور ریفرینڈم کا نتیجہ جناب بندر کے مخالف آنے کے باوجود انہیں عہدے پہ برقرار رکھا۔ اس کے جواب میں مزید احتجاج اٹھا اور "جنرل"ارتقاء صاحب کے عہدے کو ماننے سے انکار کیا گیا مگر "جنرل" ارتقاء صاحب نے تمام تر احتجاج کو نظر انداز کردیا اور آج بھی اپنے عہدے پہ مصروف کار ہیں۔

جناب بندر باشعور طبقے میں ذہین اور کم شعور طبقے میں بے وقوف جانے جاتے ہیں۔ کافی تجربات میں معاون سائنسدان کے طور پہ خدمات انجام دیتے رہتے ہیں۔ اپنی شہرت کی بناء پہ سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں، وہ کب کیا اور کیسے کر رہے ہیں سب کچھ قلم بند کیا جاتا ہے جس سے وہ کبھی کبھی ناراض بھی ہوجاتے ہیں کہ کم از کم جو کیا جائے ان کی "پرمیسن" لینی چاہیئے ۔
جناب بندر کی اتنی عظیم کاوشوں کے برعکس بڑے پیمانے پہ ان کی خدمات کا اعتراف کبھی نہیں کیا گیا، جس کی بناء پہ اب تحریک حقوق بندر نے اپنی جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اور انڈیا اور پاکستان کے کئی اہم مقامات پہ ان کے احتجاجی جلوس توڑ پھوڑ کرتے دکھائی دیئے۔ اگر ان کے مطالبات نا مانے گئے تو امکان ہے کہ یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔

===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/

Comments