انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 7
===========
موضوع: کتا
کتا ایک پالتو جانور ہے ـ اگر پالتو نہ ہو تو فالتو سمجھا جاتا ہے ـ یہ کتا ہی ہے جس کی وفاداری مشہور ہے، ورنہ کتیا تو اکثر چوروں سے ملی ہوتی ہے ـ اگر کہیں دو چار لبرل قسم کے کتے دھرنا دیے بیٹھے ہوں تو فوراً رستہ بدل لیجیے، اسی میں ہی بھلائی ہے ـ ڈر ان کتوں سے کٹنے کا نہیں ہے، بلکہ عزت کے لٹ جانے کا ہے...تو اور کیا بھیا! "آبرو جا کے نہیں آتی" ـ آج کل کے کچھ باپ بھی عجیب ہیں خود کو جانور ثابت کرنے پر تلے ہیں، اپنے نکمے بیٹوں کی وکالت میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں اچھا... تو ہمارا کتا "کتا" اور تمہارا کتا "ٹومی" ـ
میں اپنے ایک ن لیگی دوست کے ساتھ جا رہا تھا کہ میری نظر ایک چھوٹے سے پیارے سے کتے پر پڑی، میں نے اسے کہا! وہ دیکھو کتے کا بچہ... اُس پر تو دوست کی نظر پڑی نہیں اوپر دیوار پر لگے نواز شریف کے پوسٹر پر جا ٹکی... بس پھر کیا تھا مجھ پر خوب "آگ بگولہ ہوا"..."سونے پر سہاگہ" یہ کہ میری بات اُس کے پلے پڑنے تک وہ کتے کا بچہ وہاں سے ایسے غائب ہو چکا تھا جیسے گدے کے سر سے سینگھ ـ آج کل کے کتے حالات سے خوب واقف ہیں، راتوں کو انہیں چوروں اور ڈاکوؤں سے زیادہ عاشقوں پر بھونکنا پڑتا ہےـ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار عاشق جیب میں ہڈی لے کر نکلتے ہیں، تا کہ کوئی کتا "کباب میں ہڈی" نہ بنےـ کتے کا تعلق کسی لبرل جماعت سے ہو تو بغیر ہڈی کے بھی کام چل جاتا ہے، اور اگر کتا مذہب پسند ہو تو عاشق کے باپ تک خبر پہنچا کر رہتا ہے، نہ محبوبہ ملتی ہے نہ گھر ... "دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا"... ویسے بھی جب قسمت خراب ہو تو "اونٹ چڑھے کو بھی کتا کاٹے"... اب کتوں کو کون سمجھائے کہ "گھر آئے کتے کو بھی نہیں نکالتے" یہ بے چارہ تو عاشق ہے ـ ہالینڈ کے کتوں سے متعلق ایک خبر پڑھنے کو ملی کہ بہت با اخلاق ہوتے ہیں، فوراً ذہن میں خیال آیا کیوں نہ پاکستانی سیاست دانوں کو ان کی تربیت میں بھیجا جائے... کیونکہ کچھ سیاست دان تو ایسے بولتے ہیں کہ جیسے"کتے کا بھیجا کھا کر آئیں ہوں"ـ یہاں کی سیاست بھی تو کتے کی دم کی طرح ہے بارہ برس نلکی میں رکھیں پھر بھی ٹیڑھی ہی رہتی ہے، "ٹیڑھی کھیر" بھی کہہ سکتے ہیں، مگر سیاست میں اتنی نفاست کہاں...؟
میں اپنے شاگردوں کو صفائی نہ کرنے پر کتے کی مثال دیتا ہوں، کہ یار تم سے تو وہی اچھا ہے...کہ جب بھی بیٹھتا ہے دم ہلا کر بیٹھتا ہےـ
غریب کا کتا اکثر بدشکل اور منہ پھٹ ہوتا ہے، "ایک تو کریلا دوسرا نیم چڑھا"... کوئی بات دل میں نہیں رکھتا... شاید اُس کو بھی خبر ہوتی ہے کہ "سوتے کا منہ کتا چاٹے"... اکثر اُس کا غصہ خود پر ہی نکلتا ہے... مالک پر نکالے تو اُس کے ساتھ کتوں والی ہوتی ہے...پھر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہےـ
یہ بات تو پرانی ہوئی کہ "کتے کو گھی نہیں پچتا" ... آج کل تو ہر محکمے کا ہر کتا گھی چھوڑ پتہ نہیں کیا کیا پچا رہا ہے... اور یقین جانیے ڈکار تک نہیں لیتا... "لکڑ پتھر سب ہضم"... اور ہڈ حرامی اتنی کہ ضرورت اور کام کے وقت سانپ سونگھ جاتا ہے... یعنی "شکار کے وقت کتیا ہگاسی"ـ امریکہ میں کتوں کا خیال ماں باپ سے زیادہ رکھا جاتا ہےـ اسی لیے تو ہر مسلمان اس شش و پنج میں مبتلا ہے کہ آیا یہ امریکی کتے ہیں یا کتے امریکی...؟
بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے کتوں پر بہت کچھ لکھا...ایک ادیب دوست کہتے ہیں کہ بچپن میں میرا گزر ایک کتے کے پاس سے ہوا، کچھ دور تک تو میں پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا کہ کہیں وہ مجھے کاٹ نہ لے... مگر وہ خاموش بیٹھا رہا...تھوڑا اور آگے جا کر میرا ڈر ختم ہو گیا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ دیا... پر اچانک اُس "کتی کے بچے" نے مجھے پیچھے سے کاٹ لیا...اُس دن سے میرا کتوں کے ساتھ "چھتیس کا آنکڑا" ہےـ
"اونٹ کی پکڑ اور کتے کی جھپٹ" دونوں سے بچ کر رہیں، خاص کر جب گلی بھی کتے کی ہو... کیونکہ "اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے"ـ اگر کبھی بندہ کتوں کے شکنجے میں آ ہی جائے تو ڈٹ کر اُن کا مقابلہ کرے... "اوکھلی میں دیا سر تو موسلوں کا کیا ڈر"... " ہمت ِ مرداں مددِ خدا"... اور اگر ہمت ہی نہ ہو تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے... "نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی"...پھر بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ ناف میں چودہ ٹیکے ہی تو لگیں گے بس...!
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
کاوش نمبر: 7
===========
موضوع: کتا
کتا ایک پالتو جانور ہے ـ اگر پالتو نہ ہو تو فالتو سمجھا جاتا ہے ـ یہ کتا ہی ہے جس کی وفاداری مشہور ہے، ورنہ کتیا تو اکثر چوروں سے ملی ہوتی ہے ـ اگر کہیں دو چار لبرل قسم کے کتے دھرنا دیے بیٹھے ہوں تو فوراً رستہ بدل لیجیے، اسی میں ہی بھلائی ہے ـ ڈر ان کتوں سے کٹنے کا نہیں ہے، بلکہ عزت کے لٹ جانے کا ہے...تو اور کیا بھیا! "آبرو جا کے نہیں آتی" ـ آج کل کے کچھ باپ بھی عجیب ہیں خود کو جانور ثابت کرنے پر تلے ہیں، اپنے نکمے بیٹوں کی وکالت میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں اچھا... تو ہمارا کتا "کتا" اور تمہارا کتا "ٹومی" ـ
میں اپنے ایک ن لیگی دوست کے ساتھ جا رہا تھا کہ میری نظر ایک چھوٹے سے پیارے سے کتے پر پڑی، میں نے اسے کہا! وہ دیکھو کتے کا بچہ... اُس پر تو دوست کی نظر پڑی نہیں اوپر دیوار پر لگے نواز شریف کے پوسٹر پر جا ٹکی... بس پھر کیا تھا مجھ پر خوب "آگ بگولہ ہوا"..."سونے پر سہاگہ" یہ کہ میری بات اُس کے پلے پڑنے تک وہ کتے کا بچہ وہاں سے ایسے غائب ہو چکا تھا جیسے گدے کے سر سے سینگھ ـ آج کل کے کتے حالات سے خوب واقف ہیں، راتوں کو انہیں چوروں اور ڈاکوؤں سے زیادہ عاشقوں پر بھونکنا پڑتا ہےـ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار عاشق جیب میں ہڈی لے کر نکلتے ہیں، تا کہ کوئی کتا "کباب میں ہڈی" نہ بنےـ کتے کا تعلق کسی لبرل جماعت سے ہو تو بغیر ہڈی کے بھی کام چل جاتا ہے، اور اگر کتا مذہب پسند ہو تو عاشق کے باپ تک خبر پہنچا کر رہتا ہے، نہ محبوبہ ملتی ہے نہ گھر ... "دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا"... ویسے بھی جب قسمت خراب ہو تو "اونٹ چڑھے کو بھی کتا کاٹے"... اب کتوں کو کون سمجھائے کہ "گھر آئے کتے کو بھی نہیں نکالتے" یہ بے چارہ تو عاشق ہے ـ ہالینڈ کے کتوں سے متعلق ایک خبر پڑھنے کو ملی کہ بہت با اخلاق ہوتے ہیں، فوراً ذہن میں خیال آیا کیوں نہ پاکستانی سیاست دانوں کو ان کی تربیت میں بھیجا جائے... کیونکہ کچھ سیاست دان تو ایسے بولتے ہیں کہ جیسے"کتے کا بھیجا کھا کر آئیں ہوں"ـ یہاں کی سیاست بھی تو کتے کی دم کی طرح ہے بارہ برس نلکی میں رکھیں پھر بھی ٹیڑھی ہی رہتی ہے، "ٹیڑھی کھیر" بھی کہہ سکتے ہیں، مگر سیاست میں اتنی نفاست کہاں...؟
میں اپنے شاگردوں کو صفائی نہ کرنے پر کتے کی مثال دیتا ہوں، کہ یار تم سے تو وہی اچھا ہے...کہ جب بھی بیٹھتا ہے دم ہلا کر بیٹھتا ہےـ
غریب کا کتا اکثر بدشکل اور منہ پھٹ ہوتا ہے، "ایک تو کریلا دوسرا نیم چڑھا"... کوئی بات دل میں نہیں رکھتا... شاید اُس کو بھی خبر ہوتی ہے کہ "سوتے کا منہ کتا چاٹے"... اکثر اُس کا غصہ خود پر ہی نکلتا ہے... مالک پر نکالے تو اُس کے ساتھ کتوں والی ہوتی ہے...پھر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہےـ
یہ بات تو پرانی ہوئی کہ "کتے کو گھی نہیں پچتا" ... آج کل تو ہر محکمے کا ہر کتا گھی چھوڑ پتہ نہیں کیا کیا پچا رہا ہے... اور یقین جانیے ڈکار تک نہیں لیتا... "لکڑ پتھر سب ہضم"... اور ہڈ حرامی اتنی کہ ضرورت اور کام کے وقت سانپ سونگھ جاتا ہے... یعنی "شکار کے وقت کتیا ہگاسی"ـ امریکہ میں کتوں کا خیال ماں باپ سے زیادہ رکھا جاتا ہےـ اسی لیے تو ہر مسلمان اس شش و پنج میں مبتلا ہے کہ آیا یہ امریکی کتے ہیں یا کتے امریکی...؟
بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے کتوں پر بہت کچھ لکھا...ایک ادیب دوست کہتے ہیں کہ بچپن میں میرا گزر ایک کتے کے پاس سے ہوا، کچھ دور تک تو میں پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا کہ کہیں وہ مجھے کاٹ نہ لے... مگر وہ خاموش بیٹھا رہا...تھوڑا اور آگے جا کر میرا ڈر ختم ہو گیا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ دیا... پر اچانک اُس "کتی کے بچے" نے مجھے پیچھے سے کاٹ لیا...اُس دن سے میرا کتوں کے ساتھ "چھتیس کا آنکڑا" ہےـ
"اونٹ کی پکڑ اور کتے کی جھپٹ" دونوں سے بچ کر رہیں، خاص کر جب گلی بھی کتے کی ہو... کیونکہ "اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے"ـ اگر کبھی بندہ کتوں کے شکنجے میں آ ہی جائے تو ڈٹ کر اُن کا مقابلہ کرے... "اوکھلی میں دیا سر تو موسلوں کا کیا ڈر"... " ہمت ِ مرداں مددِ خدا"... اور اگر ہمت ہی نہ ہو تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے... "نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی"...پھر بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ ناف میں چودہ ٹیکے ہی تو لگیں گے بس...!
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
Comments
Post a Comment