سانپ... کاوش نمبر 8

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 8
===========
موضوع: سانپ

" سانپ " ، ايک ايسا موذی جاندار جس کو ميں بجا طور پر جانوروں کا "دہشت گرد" کہتا ہوں۔ اسے ديکهتے ہی خوف کی لہر بدن ميں دوڑتی محسوس ہوتی ہے ۔کسی جگہ اس کی موجودگی کا اعلان ہو تو اچهے خاصے بہادر بهی سر پر پير رکھ کر بهاگتے ہيں ۔ سانپ سے سابقہ تو دور کی بات بعض اوقات اس کا وہم بهی ايسے ايسے لطيفے بناتا ہے کہ سننے پر آپ پيٹ پکڑ کر ہنستے ہيں ۔مشت نمونہ از خروارے کے مصداق چند واقعات کا احوال پيش کررہا ہوں ۔ ہمارے ايک دوست رات کو دير سے گهر لوٹے اور جيسے تهکا اونٹ سرائے کو ديکهتا ہے، بستر کو ديکها اور دراز ہوتے ہی عالم رؤيا ميں پہنچ گئے۔ آدهی رات کو آنکھ کهلی تو بجلی نہ ہونے کے باعث کمرے ميں گهپ اندهيرا تها ، انہيں محسوس ہوا کہ گردن کے گرد کوئی چيز لپٹی ہوئی ہے ۔ سانپ کا تصور ذہن ميں آتے ہی ايسا خوف طاری ہوا کہ کاٹو تو لہو نہيں ۔ کچھ دير تو ايسے ہی سن ہوکر ليٹے رہے پهر اندازے سے سانپ کی دم اور سر کو پکڑ کر اپنی گردن چهڑائی ، چادر ميں ڈال کر لپيٹا اور چارپائی کے نيچے پڑا ، ايک بڑا سا پتهر اٹها کر سانپ کی چٹنی بناڈالی ، پهر چادر سميت اسے چارپائی کے نيچے پهينک ديا ۔ صبح اٹهے تو سب گهر والوں کو جمع کيا اور تيس مار خان بننے کا جو موقع ہاتھ آيا تها اس کابهرپور فائده اٹهاتے ہوئے، دو گز لمبا سانپ مارنے کا قصہ مزے لے لے کر سنايا ، پهر سب کو لے کر کمرے ميں آئے اور چارپائی کے نيچے سے چادر نکالی؛ جو کہ اب چادر کی بجائے جهالر بن چکی تهی۔ کهول کر ديکها تو اس کے اندر، موصوف کا مفلر ريزه ريزه ہوا پڑا تها۔ بس پهر کيا تها کمرے ميں قہقہے گونجے اور جناب اب چادر اور مفلر کے نقصان پر رونے لگ گئے، کہ يہ تو وہی بات ہوئی" کهايا پيا کچھ نہيں گلاس توڑا باره آنے" ۔ ايک قصہ ہمارے سابق ہيڈ ماسٹر صاحب کا بهی بہت مشہور ہوا، جو کہ سانپ سے بہت زياده ڈرتے تهے۔ ايک مرتبہ صبح سويرے نوکر نے ان کی چيخ سنی تو تيزی سے سکول کے پچهواڑے کی طرف بهاگا؛ کيا ديکهتا ہے، کہ ہيڈ ماسٹر صاحب الف ننگے ، بهاگے چلے آرہے ہيں ۔ اپنی چادر اتار کر انہيں اوڑهائی اور پهر صورت حال دريافت کی تو معلوم ہوا کہ جناب حسب معمول نہانے کی غرض سے غسل خانے ميں داخل ہوئے تهے (صبح اسمبلی سے بہت پہلے پہنچتے تهے)اور جب نہانے لگے تو چهت کے ساتھ لٹکے ہوئے سانپ پر نظر پڑی ، پهر کيا تها ، باہر کی طرف دوڑ لگاتے وقت يہ بهی بهول گئے کہ کپڑے تو اندر ہی چهوڑ کر جارہے ہيں ۔
خير يہ تو بهلے دنوں کی باتيں تهيں۔ آج کل تو انسان اتنے زہريلے ہو چکے ہيں کہ خود سانپ ان سے بهاگتے پهرتے ہيں ۔ انسان کے ڈسے ہوئے کا علاج تو کسی سپيرے کے پاس بهی نہيں ہوتا ۔ آستين کے سانپ ، پهر سب سے زياده خطرناک ہوتے ہيں ۔ ادهر کاٹے ادهر پلٹے کے مصداق يہ کاٹ کر انجان بن جاتے ہيں بلکه الٹا ہمدردی جتاتے ہيں اور غمخواری دکهاتے ہيں ۔ کہا جاتا ہے کہ سانپ کا کاٹا رسی سے بهی ڈرتا ہے ، ليکن ہم پاکستانيوں پر يہ کہاوت صادق نہيں آتی ۔ ہم بار بار خود کو" سياست دان " نامی سانپ سے ڈسوا کر بهی نہ تو ڈرے ہيں اور نہ ہی ہوش ميں آئے ہيں ۔

===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/

Comments