ایک تھی لڑ کی

"ایک تھی لڑکی!"
ساجدہ غلام محمد
مانچسٹر
............

اندھیرا تھا، اذیت تھی، بےبسی تھی، اور وہ تھی.... اکیلی!
اسے یاد آیا، جس سکول میں وہ ٹیچر تھی، ایک دن وہاں مس فردوس نے اس کی جانب ایک کتاب بڑھائی تھی.
"یہ کیا ہے؟ "وہ حیران ہوئی.
" اسےضرور پڑھنا، تمہارے بہت کام آئے گی. "جواب ملا تھا. اس نے اس کتاب کو اس وقت اپنے پرس میں اور گھر آ کے بےپروائی سے اپنے کمرے میں بنی کتابوں والی الماری کے اوپر رکھ دیا تھا....
............
وہ ماریہ تھی. پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن. لاڈوں میں پلی اور نازوں میں بڑھی.
" امی، یہ تو گڑیا ہے، آنیہ کی گڑیا سے بھی ذیادہ پیاری. "ولید نے چھوٹی سی بہنا کو دیکھتے ہی کہا.
" صرف آنیہ کی نہیں، اس دنیا میں جتنی بھی گڑیاں ہیں، ان سب سے زیادہ پیاری ہے یہ. " وحید نے بھی اپنی بہنا کو دیکھنے کی کوشش کی. امی اور بابا بہن کے لیے بھائیوں کے پیار کو دیکھ کے خوش ہو رہے تھے.
" لائیں امی، اسے مجھے دیں، میں اپنے دوستوں کو دکھا کے لاتا ہوں. "عنید نے بہنا کو اٹھانا چاہا تو ماں کی گود میں مزے سے سوئی بہناکی نیند خراب ہو گئی.
" دیکھا، تم نے جگا دیا اسے. تمہیں تو اس سے پیار ہی نہیں ہے. "عبید عنید سے ہی ناراض ہو گیا.
" لیکن میں نے تو کچھ نہیں کیا."عنید نے صفائی پیش کی.
" اوہو بیٹا، ابھی تو وہ گھر آئی ہے. کچھ دن بعد دعوت کریں گے تو اپنے سب دوستوں کو بلانا."بابا نے مداخلت کی ورنہ ایک دن کی بہنا کی وجہ سے بھائیوں میں لڑائی ہونے لگی تھی. اسی وقت سعید بھائی اندر آئے.
"آہا، میری گڑیا گھر پہنچ بھی گئی. میں تو مٹھائی لینے گیا تھا. "انہوں نے امی کی گود سے روتی ہوئی بہنا کو لے کے جھلاتے ہوئے کہا.
اسی طرح بھائیوں کے بازوؤں میں جھولتی ماریہ بڑی ہونے لگی.
" یہ آپ کیا کھیل رہے ہیں؟ "بھائیوں کے ہر کھیل، ہر کام میں وہ ان کے ساتھ ہوتی. ابھی بھی دو پونیاں بنائے وہ ان سے پوچھ رہی تھی.
" گلی ڈنڈا. " وحید نے گُلی کو زمین پہ ٹکاتے ہوئے کہا.
" تم پیچھے ہٹ جاؤ ماریہ، تمہیں لگ نہ جائے. "ولید نے اسے بازو سے پیچھے دھکیلا. کچھ اور ہم عمر بچے بھی ان کے ساتھ کھیل رہے تھے.
" اسے کیسے کھیلتے ہیں؟ "ماریہ دو قدم پیچھے ہو کے چار قدم آگے ہو گئی تھی.
" ایسے! "وحید نے ڈنڈے کو گُلی پہ مارا تو وہ اچھلتی ہوئی دور جا گری، ولید اور اس کی ٹیم گُلی اٹھانے بھاگی اور وحید رن بنانے لیکن اس کے واپس آنے تک گُلی واپس اپنی جگہ پہ پہنچ چکی تھی.
" آؤٹ! آؤٹ! آؤٹ!! " ٹیمِ ولید نے خوشی میں اچھلنا شروع کر دیا. ان کی دیکھا دیکھی ماریہ بھی اچھل اچھل کر شور مچانے لگی. کچھ ہی دیر میں وہ بھی بھائیوں کے ساتھ محلے کی سڑک کے بیچوں بیچ گُلی ڈنڈاکھیل رہی تھی!
" گڑیا! آؤ دکھاؤں کہ بلب کیسے بدلتے ہیں. "وہ آٹھ سال کی ہو گئی تھی لیکن سعید بھائی کے لیے گڑیا ہی تھی.
" کرسی اچھی طرح پکڑی ہوئی ہے ناں؟"وہ کرسی کے اوپر کھڑے ہو کر اب فیوز بلب اتار رہے تھے.
"جی بھائی. "ماریہ بہت انہماک سے ان کی کارروائی دیکھ رہی تھی.
" دیکھو، اسے ایسے گھمائیں تو یہ اپنی جگہ سے نکل آتا ہے."انہوں نے فیوز بلب اس کی طرف بڑھایا. "اب نیا والا بلب دینا." ماریہ نے فوراً صحیح بلب ان کی طرف بڑھا دیا.
"یہ جگہ نظر آ رہی ہے ناں، بس اس میں بلب کی ان دو پنوں کو پھنسانا ہوتا ہے. یہ دیکھو... ایسے... "سعید بھائی نے بلب اس جگہ پہ رکھ کے گھمایا تو وہ وہاں فِٹ ہو گیا.
" میں بھی لگا کے دیکھوں؟ "ماریہ نے جلدی سے فرمائش کر ڈالی.
" تمہارے لیے تو میز کے اوپر کرسی رکھنی پڑے گی. "سعید بھائی ہنستے ہوئے ایک میز اٹھا لائے اور اس کے اوپر کرسی رکھ کے ماریہ کو اس پہ کھڑا کر دیا. کچھ ہی لمحوں بعد وہ سعید بھائی کی ہدایات کی روشنی میں بلب اتار کے دوبارہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی!!
..................
" میں نماز پڑھنے جا رہی ہوں. تم نے پڑھ لی؟ "امی نے پوچھا.
" جی امی، میں نے تو اذان ہوتے ہی پڑھ لی تھی. "ماریہ کہانیوں کی کتاب لیے بیٹھی تھی.
" اچھا چلو پھر اس دیگچی میں تیل اور زیرہ ڈال دیا ہے میں نے.چولہا جلا لو اور جب زیرہ کڑکڑا جائے تو پیاز ڈال دینا. میں نے کاٹ کے رکھ دیے ہیں . "امی نے جاتے ہوئے ہدایات دیں.
" جی امی. " جنہیں اس نے بےدھیانی سے سنا!
" چلو ناں اب اٹھ بھی جاؤ. "امی نے گھورا تو وہ منہ بناتے ہوئے کچن میں چلی گئی. کچھ دیر بعد امی وضو کر کے نکلیں.
" پیاز براؤن ہو گئے؟ "
" ابھی کہاں امی، ابھی تو زیرہ کڑکڑایا ہی نہیں. "اس نے پتیلی میں جھانکتے ہوئے کہا.
" ہیں؟ "حیران پریشان سی امی نے پتیلی میں جھانکا اور سر پکڑ لیا. زیرہ تیل میں جل کے کالا ہو چکا تھا.
" یہ کیا ہے؟ تمہیں پتا بھی نہیں چلا؟ اتنی دیر سے تیل میں زیرہ پک پک کر کالا ہو گیا ہے، اب تک تو پیاز بھی براؤن ہو چکے ہوتے. "
" لیکن امی... کڑکڑانے کی... آواز نہیں آئی. "ماریہ سہم سی گئی، پتا چل گیا تھا کہ کچھ غلطی ہو گئی ہے!
" تمہارا کیا خیال تھا کہ زیرہ مرغی کی طرح کڑ کڑ کی آواز نکالے گا؟ حد ہی ہو گئی. "امی نے خفگی سے کہا تو ماریہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. رات کے کھانے پہ بھی ماریہ خاموش خاموش سی تھی. امی نے ساری بات بتا دی.
" آپ رہنے دیں ناں. ہماری بہنا ایسے ہی ٹھیک ہے. "عنید نے ماریہ کے سر پہ پیار سے چپت لگائی.
" میں نے کون سا اس سے آٹا گوندھوایا تھا. بس زرا سا کام ہی تو کہا تھا. "امی نے کہا.
" بھئی آپ بھی کمال کرتی ہیں. اگر آپ مجھے بھی اسی طرح کا ہدایت نامہ دیتیں کہ زیرہ کڑکڑائے تو پیاز ڈال دینا، تو میں بھی شام تک اس کے کڑکڑانے کا ہی انتظار کرتا رہتا. اس لفظ، بہتر ہے اسے کوڈ ورڈ کہہ لیں، اس کا تو اسے ہی علم ہو جو کھانا پکانے کے میدان میں کوئی سوجھ بوجھ رکھتا ہو. ہم یہ غلطی کرتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی بات سمجھانی ہو تو اس کے لیول پہ نہیں، اپنے ہی لیول پہ رہ کے بات کرتے ہیں."
"اچھا بھئی،  سب لوگ تو میرے پیچھے ہی پڑ گئے ہو. "امی تھوڑی سی ناراض ہوگئیں. "میں نے اس کا بھلا ہی سوچا تھا.شادی کی عمر ہو رہی ہے. اگلے گھر جائے گی تو کیا کرے گی." ماریہ چپ چاپ سر جھکائے باتیں سنتے ہوئے کھانا کھا رہی تھی.
"ہم اسے کسی ایسے گھر بھیجیں گے جہاں ہر کام کے لیے ماسی ہو. ہم نے اپنی لاڈلی بہنا سے کام تھوڑی کرانے ہیں. "عنید نے گاجر کا قتلہ منہ میں ڈالا.
" جی ہاں، ہم لڑکے والوں سے کہیں گے کہ ہماری بلی سے آپ اپنے بلب ٹھیک کرا لیں، نلکا لیک ہو رہا ہے تو وہ ٹھیک کرا لیں، گاڑی کا ٹائر تبدیل کرا لیں، بس کچن کے کام نہ کرائیں. "ولید نے شرارت سے کہا تو سبھی ہنس پڑے.
ماریہ کی دونوں بھابھیوں نے بھائیوں کی طرح ماریہ کو ہاتھ کا چھالا بنا کے رکھا. مجال جو گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگانے دیا ہو،
" ہماری ماریہ ایسی ہی اچھی لگتی ہے. "ازفیہ بھابھی نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا تھا.
" میرا خیال ہے تم کسٹرڈ بنانا تو سیکھ ہی لو. ورنہ تمہاری ساس جب پہلی بار تم سے میٹھا بنوائیں گی تو کیا بناؤ گی. "وحید ہنسا.
" جی مجھے کسٹرڈ بناناآتا ہے، میں اب اتنی بھی نکمی نہیں ہوں."ماریہ تنک کر بولی.
"ہاں بس زرا دھیان سے، کسٹرڈ ہی ڈالنا، کارن فلور نہ ڈال دینا. "وحید نے اسے پھر تنگ کیا تھا!
حسنِ اتفاق کہ اس کی شادی ہوئی تو سپین میں رہنے والی اپنی پھپھو کے بیٹے سے!
" امی! اتنی دور کیوں بھیج رہی ہیں؟ "بات پکی ہونے پہ وہ رو پڑی.
" بیٹا! سمجھنے کی کوشش کرو، یہاں حالات ہمارے لیے مشکل ہوتے جا رہے ہیں. ہم نہیں چاہتے کہ تمہیں کبھی بھی، کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف ہو. "امی کا دل بھی رو رہا تھا لیکن مصلحت!
" تو آپ سب سے اتنی دور رہنا میرے لیے کم تکلیف دہ ہے؟ میں تو کبھی آپ سب سے دور دوسرے شہر نہیں گئی اور آپ لوگ مجھے اتنے دور سپین بھیج رہے ہیں. "
" بیٹا، پھپھو نے اتنی چاہت سے تمہارا ہاتھ مانگا ہے. اور خالد ماشاءاللہ کتنا خوبرو، مہذب بچہ ہے. سلجھا ہوا اور نہایت باادب. تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی. "
" ارے امی، اسے خالد بھائی کی پریشانی تھوڑی ہے، اسے تو یہ پریشانی ہے کہ وہاں سارے کام خود کرنے پڑیں گے."عنید بھائی نے ماں بیٹی کی باتیں سن لی تھیں! ماریہ نم آنکھوں کے ساتھ جھینپی ہنسی ہنس دی.
.....................................

سپین کے شہر بارسلونا کے چھوٹے سے، خوبصورت سے گھر میں اسے آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا.
" وہ ایک ماہ، دو ماہ کا دلہناپہ پاکستان کے مزے ہوتے ہیں. یہاں تو جلد سے جلد روٹین میں آنا پڑتا ہے. نہ کوئی شادی کی دعوتیں، نہ وہ شادی کے بعد مہینہ بھر میکے میں رہ کے آنے کا رواج، اتنی دور آنے کے بعد میکے کا پہلا چکر بھی سال، دو سال بعد لگ پاتا ہے."وہ بھابھی سے موبائل پہ بات کر رہی تھی.
"ہر جگہ کے اپنے سکھ اور اپنے دکھ ہوتے ہیں بہنا. ہمیں دیکھو، ہمیں تو حسرت ہے کہ ہم پاکستان سے باہر بھی گھومیں اور تم سپین میں ہو."
دن گزرتے گئے.
"پھپھو، میں نے صفائی کر لی ہے. "ایک دن پھپھو (اس کی ساس)  سو کے اٹھیں تو ماریہ نے خوشی سے انہیں بتایا.
" اتنی صبح صبح؟"نو بجے تھے.
"جی، وہ تو سو رہے ہیں، بس مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو میں نے سوچا کہ کچھ کام ہی کر لوں."خالد کے دفتری اوقات دوپہر تین سے رات دس بجے تک تھے. پھپھو نے کچن پہ سرسری نظر ڈالی. یوں تو کچن سمٹا ہوا لگ رہا تھا لیکن ہر چیز سامنے ہی تھی، کچن میں جتنی چیزیں سلیقے سے الماری کے اندر ہوں، اتنا ہی اچھا لگتا ہے. بڑے کمرے میں بھی فرش گو صفائی کی وجہ سے چمک رہا تھا لیکن صوفوں پہ کشن بےترتیب پڑے تھے. میز پہ غیر ضروری سامان تھا اور استری والی میز کے اوپر کپڑوں کا چھاٹا سا ڈھیر.
"شباش بیٹا! گھر تو واقعی بہت اچھا لگ رہا ہے. "انہوں نے دل رکھنے کو ماریہ سے کہہ دیا تو وہ خوشی سے سرشار ہو گئی.
" کوئی بات نہیں، ابھی ناسمجھ ہے. آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی. "پھپھو نے خوشی سے اس کے تمتماتے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ تھا.
...........
" ہر گھر کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے. لاؤ میں تمہیں سکھاؤں کہ میں کیسے سالن بناتی ہوں. "پھپھو جانتی تھیں کہ ماریہ کو گھرداری سے متعلق اتنا علم نہیں ہے، تبھی" تمہیں یہ کام بھی نہیں آتا" کہہ کے طنز کرنے کی بجائے انہوں نے ہلکے پھلکے دوستانہ انداز میں اسے سالن بنانے کے بنیادی طریقے سکھانا شروع کر دیے . پیاز کاٹتے کاٹتے ماریہ ہنس پڑی.
"کیا ہوا؟ "پھپھو نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا.
" ایک دوست کی بات یاد آ گئی. وہ کہا کرتی تھی کہ لڑکی کو شادی سے پہلے کھانا بنانا نہیں سیکھنا چاہیے، ساس خود ہی میکے کے طریقے کو منسوخ کر کے اسے اپنے طریقے سکھا دیتی ہے. "اس کی بات سن کے پھپھو ہنس پڑیں.
" اور اگر ٹھیک ٹھاک کرخت قسم کی ساس ہو تو چٹیا سے پکڑ کے باہر بھی کر دیتی ہے."
"آپ تو میری چٹیا نہیں پکڑیں گی ناں؟؟ "ماریہ نے جلدی سے پوچھا.
" نہیں. "پتیلی میں تیل ڈالتی پھپھو دوبارہ ہنس پڑیں." کیونکہ مجھے عبید نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ماریہ کو ڈرل مشین چلانی آتی ہے ، سالن میں چمچا چلانا نہیں."
"اف!عبید بھائی بھی ناں!! "ماریہ شرمندہ ہو گئی تو پھپھو نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا.
جلد ہی ماریہ 'ہانڈی روٹی'  میں ایسی طاق ہوئی کہ پھپھو جیسی ماہر کک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا. قدم قدم پہ پھپھو کی رہنمائی، پھر کھانا پکانے کی بےشمار کتابیں، اور انٹرنیٹ!
" تم ٹی وی پہ کھانا پکانے کے پروگرام دیکھا کرو، ان کی تراکیب بھی لاجواب ہوتی ہیں. "نوریہ بھابھی نے اسے مشورہ دیا تھا.
" نہیں بھابھی، ایک گھنٹے میں تین تراکیب اور بےشمار اشتہارات مجھ سے نہیں دیکھے جاتے. انٹرنیٹ پہ بہت سی مزیدار تراکیب ہیں. وہیں سیکھ لیتی ہوں."
ایک دن وہ نیٹ پہ فیس بک استعمال کر رہی تھی کہ اچانک کسی کی پوسٹ پہ نظر پڑی. پوسٹ کرنے واالے نے ایکا اسلامی لیکچر ویڈیو شئیر کی تھی.
" پہلے یہ ترکیب پڑھ لوں، پھر اس ویڈیو کو دیکھتی ہوں. "اس نے سوچا اور دوبارہ سے کچے قیمے کی بریانی کی ترکیب کی طرف متوجہ ہو گئی.
...........
" یا الہی، خیر."شادی کو تین سال گزر گئے تھے اور ماریہ کی گود میں ایک خوبصورت سا بچہ آ گیا تھا. پھپھو اور خالدکو کسی شادی میں شرکت کے لیے دوسرے شہر جانا تھا.
"ہم شام تک آ جائیں گے. "خالد نے اسے تسلی دی تھی.
" آپ آرام سے جائیں . مجھے انشاءاللہ کوئی پریشانی نہیں ہو گی. "ماریہ نے ننھے شمس کو کندھے پہ تھپکتے ہوئے کہا تھا. اور اب رات کے تقریباً آٹھ بجے وہ گھر پہنچے تو دروازہ کھلتے ہی شمس کے زور زور سےرونے کی آواز آئی . خالد اود پھپھو گھبرا کے جلدی سے آگے بڑھے تو دیکھا کہ شمس تو رو ہی رہا ہے، ساتھ میں ماریہ بھی رو رہی تھی.
" ارے ارے کیا ہوا؟"
"کہاں رہ گئے تھے آپ دونوں؟ میں نے اتنی دفعہ کال ملائی تھی؟ "انہیں دیکھتے ہی ماریہ لپک کے پھپھو کے گلے لگ گئی. شمس کو خالد نے اٹھا لیا.
" میرے موبائل کی بیٹری ختم تھی اور ماما کے موبائل پہ سگنل کا مسئلہ تھا. "
" یہ صبح سے روئے جا رہا ہے. چپ ہی نہیں ہو رہا."ماریہ نے آنسو پونچھتے ہوئے بتایا.
"ارے تم تو پہلے چپ کرو. اسے گیس کا مسئلہ ہو رہا ہو گا. تم نے اسے گھُٹی پلائی؟ "پھپھو نے شمس کو خالد کی گود سے لیا.
" گھُٹی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟"ماریہ حیران ہوئی اور پھپھو نے سر پکڑا.
"ارے ماریہ، میں نے تمہیں بتایا تو تھا کہ نومولود بچوں کو گیس کا مسئلہ ہو جاتا ہے. پیٹ سخت ہو جاتا ہے. ایسا ہو تو بچے بےچین ہو کے رونا شروع کر دیتے ہیں. فریج کے پاس جو الماری ہے، اس میں گھُٹی کی بوتل رکھی ہوئی تھی میں نے. وہ ایک دو چمچ پلا دیتی تو نہ یہ رو رو کے ہلکان ہوتا اور نہ تم."
"یہ گود سے ایک منٹ کے لیے بھی نہیں اترا. مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا، بس اسے ہی سنبھالتی رہی. "
" تم نے کچھ کھایا ہے؟ "خالد نے پوچھا تو اس نے منہ بناتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا.
" اف، دودھ پلانے والی ماں ہو اور صبح سے کچھ کھایا ہی نہیں. حد ہی ہو گئی. "پھپھو ناراض ہوئیں." جاؤ خالد، الماری سے گھُٹی کی بوتل لے کے آؤ اور ماریہ کے لیے دودھ کا گلاس بھی لیتے آنا."
گھٹی پلا کے پھپھو نے شمس کی ناف کے اردگرد ہلکے ہاتھوں سے سرسوں کے تیل کا مساج کیا تو کچھ ہی دیر میں اسے آرام آ گیا. رو رو کے تھک تو چکا تھا، فوراً ہی سو گیا.
"چلو اسے لٹا کے آؤ، میں تمہارے لیے گرم گرم روٹی بناتی ہوں. "پھپھو کی بات سن کے ماریہ سوئے ہوئے شمس کو لے کے کمرے میں چلی گئی. کچھ دیر بعد واپسی ہوئی.
" آئندہ ایسا نہیں کرنا بیٹے. تم میں جان ہو گی تو تم بچے اور گھر کو سنبھالو گی. اگر شمس تمہیں کچھ پکانے کا موقع نہ دے رہا ہو تو پھل کھا لو، دودھ پی لو، ایک ہاتھ میں شمس کو اٹھا کے دوسرے ہاتھ سے شیک بنا لو، رات کی روٹی بچ رہی ہو تو اسے فریز کر دو اور جب ضرورت ہو تو نکال کے گرم کر کے دہی یا سالن کے ساتھ کھا لو. بس بھوکا نہ رہو، اپنی جان پہ ظلم نہ کرو. "پھپھو نے پیار سے اسے سمجھایا تھا. جلدی جلدی گھی والی روٹی سالن کے ساتھ کھاتی ماریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا.
کچھ ہی عرصے بعد اس کی گود میں جازبہ بھی آگئی. پھپھو نے ہر قدم پہ اس کی مدد کی تھی. اور اب اس میں بھی اتنا اعتماد آ گیا تھا کہ دوسری جوان ماؤں کو مشورے اور رہنمائی دے دیتی تھی. بچے کو موشن لگ جائیں، الٹیاں آ رہی ہوں، کھانسی نزلہ ہو جائے، دانت نکالنے پہ آ جائیں، پہلی خوراک، ہر ہر مسئلے کا حل اب ماریہ بتا سکتی تھی. انٹرنیٹ نے اس کو بچوں کے معاملے میں بھی کافی کچھ سکھایا اور بتایا تھا.
.............
سب مسجدِقرطبہ دیکھنے گئے تھے.
"سکول میں مسجدِقرطبہ کے بارے میں علامہ اقبال کے عشق کا پڑھا تھا تو بہت خواہش تھی میری کہ میں بھی مسجد قرطبہ دیکھوں. کاش میں یہاں نماز بھی پڑھ سکتی."واپسی پہ ماریہ کافی اداس تھی.
"تمہارا قران مکمل ہونے والا تھا ناں."
"جی ہو گیا الحمدللہ. یہ اس سال میں میرا پانچویں بار مکمل ہوا ہے."
"ماشاءاللہ. بچوں کے ساتھ بھی تم نے نماز اور قرآن کو قائم رکھا ہوا ہے. "خالد نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا.
" بابا نے دس سال کی عمر سے عادت ڈلوا دی تھی نماز پڑھنے کی. اب کبھی چھوٹ جائے تو بےچینی رہتی ہے."ماریہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیاتھا.
.......................
اندھیرا تھا، اذیت تھی، بےبسی تھی اور وہ تھی!!!
ایک دن باتھ روم میں پھسلی اور سر پوری شدت سے باتھ ٹب سے ٹکرایا. فوراً اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے جواب دے دیا کہ دماغ پہ گہری چوٹ آئی تھی. تین دن ہسپتال میں رہنے کے بعد ماریہ سات سال کے شمس اور چار سال کی جازبہ کو روتا چھوڑ کے قبر میں جا اتری.
"تمہارا رب کون ہے؟ "سوال شروع ہو چکے تھے.
" اللہ."
"تمہارا دین کیا ہے؟"
"اسلام"
"تمہارا پیغمبر کون ہے؟ "
اور وہ کوئی جواب نہ دے پائی.... وہ بڑوں کی رہنمائی اور انٹرنیٹ کی مدد سے گھرداری میں طاق ہو گئی تھی، دنیاداری میں ماہر ہو گئی تھی لیکن دین داری میں مار کھا گئی!
اسے یاد آیا، جس سکول میں وہ ٹیچر تھی، ایک دن وہاں مس فردوس نے اس کی جانب ایک کتاب بڑھائی تھی.
"ختم نبوت (مولانا محمد شفیع صاحب)"
"یہ کیا ہے؟ "وہ حیران ہوئی.
" اسے ضرور پڑھنا، تمہارے بہت کام آئے گی . "جواب ملا تھا. اس نے اس کتاب کو اس وقت اپنے پرس میں اور گھر آ کے بےپروائی سے اپنے کمرے میں بنی کتابوں والی الماری کے اوپر رکھ دیا تھا....اور وہ وہیں پڑی رہ گئی تھی.
اسے یاد آیا، ایک دن فیس بک استعمال کرتے ہوئے اس کی نظر ایک ویڈیو پہ پڑی تھی.
" Muhammad, The Seal Of Prophecy"
اس نے سوچا تھا کہ وہ بعد میں اسے دیکھ لے گی لیکن....
اور اب اس کے پاس فرشتوں کے تیسرے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا...گھرداری اور دنیاداری نبھانے والی دینِ اسلام کے بنیادی رکن کے بارے میں غافل رہی تھی.
"تمہارا پیغمبر کون ہے؟ "
اندھیرا تھا، بے بسی تھی، اذیت تھی اور وہ تھی.... اکیلی!!
..........

Comments