روہینگیا مسلمان لہو لہو

روہنگیا مسلمان لہو لہو...!!
(کارزار/ انور غازی)
برما حکومت اور وہاں کے بودھ مت انتہاپسندوں کے انسانیت سوز مظالم کے نتیجے میں لاکھوں لٹے پٹے روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان کی اکثریت بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ ہجرت کرگئی، لیکن بڑے دُکھ کی بات ہے کوئی بھی ملک انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش نکالے جانے والے کچھ لوگوں نے بھارت کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔ اب بھارت نے اپنی ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ ان روہنگیائی مہاجروں کی شناخت کرکے انہیںبھارت نکال دیا جائے جس پر احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے حکومت کو نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے وہ چار ہفتے کے اندر اس بارے میں ایک تفصیلی بیان جاری کرے۔ قارئین! روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کو کوئی افسانہ کہہ رہا ہے اور کوئی حقیقت۔ اس موضوع پر ہم گزشتہ کئی دنوں سے تحقیق کررہے تھے، جو نتائج سامنے آئے وہ پیش خدمت ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں پر 2012ءسے قیامت بپا ہے، سر زمین اراکان ہر کچھ عرصے بعد لہو لہوہو جاتی ہے۔ ان کی بے بسی کا اب تو یہ حال ہے کہ وہاں پر شہید ہونے والوں کی خبر یں بھی شائع نہیں ہو رہیں، وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں ”بر مزار ما غریباں نے چراغے، نے گلے، نے پرِ پروانہ سوز، نے صدائے بلبلے۔“ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کا عالم یہ ہے ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن ان کے لئے کہیں سے بھی توانا آواز نہیں اٹھائی جارہی ۔مجموعی طور پر اثر رکھنے والے عالمی اداروں نے لب سےے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو چھوڑئےے مسلم امہ بھی اپنے کلمہ گو بھائیوں کا دکھ محسوس نہیں کر رہی، حالانکہ آپ ﷺکا فرمان ہے: ”مسلمان آپس میں پیار ومحبت ،رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ کیا اراکان کے مسلمان امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں؟ مسلمانوں کادل تو غیروں کی تکلیف پر بھی تڑپ جایا کرتھا، یہ تو پھر ہمارے اپنے کلمہ گو بھائی ہیں۔ جب یہ ہمارے اپنے ہیںتو پھر اتنی بے حسی، اتنی خاموشی کیونکر؟ ملّت واحدہ ہونے کی حیثیت سے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان نہیں؟ آگے بڑھنے سے پہلے برما کی تاریخ پر سرسری سی نظر ڈالتے ہیں تاکہ مقصد تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔ میانمار کا علاقہ ”اراکان“ روہنگیا مسلمانوں کا آبائی وطن ہے۔ اراکان 1784ءتک ایک آزاد ملک تھا۔ اراکانی مسلمانوں کا چودھویں اور پندرہویں صدی عیسوی میں آزاد ملک تھا۔ بعد میں برمیوں نے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ برما کی فوجی حکومت کے دور میں امتیازی قوانین کے ذریعے مسلمانوں کی زندگی مشکل بنا دی گئی۔ جائیداد چھینی، شہریت ختم ہوگئی اور وہ بے ریاست لوگ بن گئے۔ مسلمانوں سے بیگار لیا گیا۔ ایسے حالات میں بڑی تعداد تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش ہجرت کرگئی۔ برما کے مسلمانوں کی پاکستان کے ساتھ خصوصی محبت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے میانمار کی آزادی سے پہلے 1946ءمیں بعض مسلم رہنماﺅں نے قائد اعظم محمد علی جناح سے درخواست کی کہ وہ اراکان کو پاکستان میں شامل ہونے کی جدوجہد کی حمایت کریں۔ اس مقصد کے لیے اراکان مسلم لیگ بھی قائم کی گئی، لیکن اس تجویز کو رد کردیا گیا۔ بعد میں مجاہدین نے میانمار کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کردیا۔ عبدالقاسم ان مزاحمت کاروں کے رہنما تھے۔ چند برس مزاحمت کار کامیابی سے شمالی اراکان کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نومبر 1948ءمیں میانمار میں مارشل لا لگا اور فوج نے مزاحمت کاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے  جس کے نتیجے میں یہ شمالی اراکان کے جنگلوں میں روپوش ہوگئے۔ 1954ءمیں مزاحمت کاروں نے ایک بار پھر زور پکڑا اور بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔1971ءمیںروہنگی مسلمانوں کو ایک بار پھر اسلحہ جمع کرنے کا موقع مل گیا۔ 1972ءمیں ظفر نامی ایک شخص نے ”روہنگیا لبریشن پارٹی“ ترتیب دی اور بکھری ہوئی مسلم تنظیموں کو یکجا کیا۔ 1978ءمیں ”نے ون“ نے ”آپریشن کنگ ڈریگن“ کے تحت اراکان میں غیرقانونی تارکین وطن کو پکڑنا شروع کیا۔ نتیجتاً ہزارہا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہوئے۔ جون 2012ءکے فسادات کی بنیاد ایک خبر پر رکھی گئی جس میں ایک رکھائنی خاتون پر چند روہنگی مسلمانوں کے حملے اور اسے قتل کردینے کی اطلاع تھی، حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس سے قبل بھی برمی فوجی جنتا نے ایک ایسے ہی مجرمانہ حملے کی جھوٹی خبر اُڑاکر بودھوں کے اشتعال کو مسلمانوں کی طرف منتقل کیا تھا۔ اس بار بھی یہ خبر ملنے پر پہلے ہی وار میں کوئی بیسیوں روہنگی مسلمان شہید کیے گئے۔ حکومت نے قاتلوں کو پکڑنے اور انہیں روکنے کے بجائے 10 جون کو ایمرجنسی لگادی۔ رپورٹوں کے مطابق 22 جون 2012تک سیکڑوں مسلمان شہید کیے گئے۔ 90 ہزار افراد بے گھر ہوئے۔ اڑھائی ہزار سے زیادہ مکان جلائے گئے۔ ان میں 13 سو سے زیادہ گھر مسلمانوں کے تھے۔ اس سارے دورانیے میں مسلمانوں کے خلاف جی بھرکر امتیازی سلوک کیا گیا جس پر ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“ اور حقوقِ انسانی کی تمام عالمی تنظیموں نے برمی حکومت پر دباﺅ ڈالا تو ”تھین سین“ نے اقوام متحدہ کو روہنگیا مسلمانوں کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کی تجویز دی جو سختی سے رد کردی گئی۔اکتوبر 2012ءمیں حالات پھر بگڑگئے۔ اس بار بھی فسادات میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔ 46 سو مکانات جلائے گئے اور کوئی 22 ہزار افراد بے گھر کیے گئے۔ اب تک بے گھر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مسلم بستیاں تاراج ہونے کا اعتراف ”تھین سین“ نے خود بھی کیا تاہم متاثرین کو امداد پہنچانے میں اب بھی رکاوٹیں ہیں اور ”ڈاکٹرز ود آﺅٹ بارڈرز“ کی تنظیم نے نومبر 2012ءمیں اپنے کارکنوں کو علاقہ چھوڑدینے کی ہدایت کی تھی ، کیونکہ ان کارکنوں کے خلاف بودھوں کی دہشت گردی بڑھ رہی تھی۔ حالات بدستور کشیدہ ہیں بلکہ دن بدن بگڑتے ہی چلے جارہے ہیں۔ دیکھیں!جون 2012ءمیں ارکان میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے۔ جس میں بڈھسٹوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید اور سینکڑوں مسلم آبادیوں کو نذرآتش کردیاتھا، جو مسلمان سمندری راستے سے بنگلہ دیش پہنچے تھے انہیں بنگلہ حکومت نے واپس دھکیل دیا جو واپسی میں بڈھسٹوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔ میانمار حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آئے یہ مسلمان مہاجرین ”آگے کنواں پیچھے کھائی“ کا مصداق ہیں۔ جون 2012ءمیں بھی بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 9 اکتوبر 2016ءکی درمیانی شب نامعلوم افراد کی جانب سے ملٹری پر حملہ اور ان کے قتل کو بنیاد بناکر بدھسٹ اور ملٹری کی جانب سے مسلمانان اراکان پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا گیا۔ مزید یہ کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق مسلمانوں پر اس حملے کا الزام عائد کیا گیا اور اب دوبارہ ہمارے اراکانی مسلمان بھائی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ دنیا کے اکثر خطے پاکستان، سعودی عرب، ملائیشیا و دیگر ممالک میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کاعرصہ ¿ دراز سے پُرامن طور پر زندگی گزارنا اس بات کی دلیل ہے کہ روہنگیامسلمان ایک امن پسند قوم ہے جو کہ اپنے وطن میں امن کے خواہاں ہیں اوراپنا بنیادی حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اندریں حالات تمام مسلم ممالک اور ان کی تنظیموں خصوصاًاوآئی سی کو روہنگیا کے مسلمونوں کے حق میں بھر پور آواز اٹھانی چاہیے ۔ میانمار کے 8فیصد مسلمان صرف مسلمان ہونے کے ”جرم“میں حکومتی مظالم اور نا انصافیوں کا شکار ہیں۔اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر عالمی فورم پر توانا آواز اٹھائیں ،عملی اقدامات کریں تو میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم، ناانصافیوں اور زیادتیوں کا منحوس سلسلہ روکنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ کم از کم انسانی ہمدردی کی بناءپر ہی ان کے مستقل اور محفوظ مستقبل کا کوئی معقول فیصلہ کرے۔ اللہ کرے کہ ایسا جلد ہوجائے۔
٭٭٭

Comments